UA-166045260-1 गुमशुदा या भागे हुए शख्स की वापसी के लिए दुआ - Islamic Way Of Life

Latest

A website for Islamic studies, Islamic History , Islamic teachings , Islamic way of Life , Islamic quotes, Islamic research , Islamic books , Islamic method of prayers, Islamic explanation of Quran, Islamic Hadith, Islamic Fatwa and truth of Islam.

Sunday, 3 July 2022

गुमशुदा या भागे हुए शख्स की वापसी के लिए दुआ

 गुमशुदा या भागे हुए शख्स की वापसी के लिए दुआ


दो रकअत नफ्ल नमाज़ पढ़कर इस आयत को 119 बार 40 दिनों तक पढ़ें और उसके वापसी की दुआ करें।

"इन्नलजी फरज़ अलैक अल्कुरआन लरद्दुक इला मआद"

إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَى مَعَاد-

जिसने इस क़ुरआन की ज़िम्मेदारी तुमपर डाली है, वह तुम्हें उसके (अच्छे) अंजाम तक ज़रूर पहुँचाएगा।
(Quran: Surah Name: 28 القصص Verse: 85)

After praying 2 Rekaàt Nafl Namaz Recite this Dua 119 times, till 40 Days and make dua for his coming back.

"Inna allathee farada AAalayka alqurana laradduka ila maAAad"

إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَى مَعَاد-

Verily He Who ordained the Qur'an for thee, will bring thee back to the Place of Return. 

۲ رکعات نفل نماز پڑھ کر اس دعا کو ۱۱۹ مرتبہ پڑھیں اور  ۴۰ دیں تک اُسکے آنے کے لیے دعا کرتے رہیں۔


 الَّذِيْ فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْاٰ نَ لَرَآ دُّكَ اِلٰى مَعَا د-

"اے نبیؐ، یقین جانو کہ جس نے یہ قرآن تم پر فرض کیا ہے وہ تمہیں ایک بہترین انجام کو پہنچانے والا ہے-
(QS. Al-Qasas 28: Verse 85)






Tafseer:01
Surat No. 28 Ayat NO. 85 
 سورة القصص حاشیہ نمبر : 107
یعنی اس قرآن کو خلق خدا تک پہنچانے اور اس کی تعلیم دینے اور اس کی ہدایت کے مطابق دنیا کی اصلاح کرنے کی ذمہ داری تم پر ڈالی ہے ۔ 
 سورة القصص حاشیہ نمبر : 108
اصل الفاظ ہیں لَرَاۗدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ ۔     تمہیں ایک معاد کی طرف پھیرنے والا ہے   ۔  معاد کے لغوی معنی ہیں وہ مقام جس کی طرف آخر کار آدمی کو پلٹنا ہو ،  اور اسے نکرہ استعمال کرنے سے اس میں خودبخود یہ مفہوم پیدا ہوجاتا ہے کہ وہ مقام بڑی شان اور عظمت کا مقام ہے ،  بعض مفسرین نے اس سے مراد جنت لی ہے ،  لیکن اسے صرف جنت کے ساتھ مخصوص کردینے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے ،  کیوں نہ اسے ویسا ہی عام رکھا جائے جیسا خود اللہ تعالی نے بیان فرمایا ہے ،  تاکہ یہ وعدہ دنیا اور آخرت دونوں سے متعلق ہوجائے ۔  سیاق عبارت کا اقتضاء بھی یہ ہے کہ اسے آخرت ہی میں نہیں اس دنیا میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آخر کار بڑی شان و عظمت عطا کرنے کا وعدہ سمجھا جائے ۔  کفار مکہ کے جس قول پر آیت نمبر 57 سے لے کر یہاں تک مسلسل گفتگو چلی آرہی ہے اس میں انہوں نے کہا تھا کہ اے محمد  ( صلی اللہ علیہ وسلم )  تم اپنے ساتھ ہمیں بھی لے ڈوبنا چاہتے ہو ،  اگر ہم تمہارا ساتھ دیں اور اس دین کو اختیار کرلیں تو عرب کی سرزمین میں ہمارا جینا مشکل ہوجائے ۔  اس کے جواب میں اللہ تعالی اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ اے نبی جس خدا نے اس قرآن کی علم برداری کا بار تم پر ڈالا ہے وہ تمہیں برباد کرنے والا نہیں ہے ،  بلکہ تم کو اس مرتبے پر پہنچانے والا ہے جس کا تصور بھی یہ لوگ آج نہیں کرسکتے ۔  اور فی الواقع اللہ تعالی نے چند ہی سال بعد حضور کو اس دنیا میں ،  انہی لوگوں کی آنکھوں کے سامنے تمام ملک عرب پر ایسا مکمل اقتدار عطا کر کے دکھا دیا کہ آپ کی مزاحمت کرنے والی کوئی طاقت وہاں نہ ٹھہر سکی اور آپ کے دین کے سوا کسی دین کے لیے وہاں گنجائش نہ رہی ۔  عرب کی تاریخ میں اس سے پہلے کوئی نظیر اس کی موجود نہ تھی کہ پورے جزیرۃ العرب پر کسی ایک شخص بے غل و غش بادشاہی قائم ہوگئی ہو کہ ملک بھر میں کوئی اس کا مد مقابل باقی نہ رہا ہو ،  کسی میں اس کے حکم سے سرتابی کا یارانہ ہو ،  اور لوگ صرف سیاسی طور پر ہی اس کے حلقہ بگوش نہ ہوئ؁ ہوں بلکہ سارے دینوں کو مٹا کر اسی ایک شخص نے سب کو اپنے دین کا پیرو بھی بنا لیا ہو  ۔  
بعض مفسرین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ سورہ قصص کی یہ آیت مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرتے ہوئے راستہ میں نازل ہوئی تھی اور اس میں اللہ تعالی نے اپنے نبی سے یہ وعدہ فرمایا تھا کہ وہ آپ کو پھر مکہ واپس پہنچائے گا ۔  لیکن اول تو اس کے الفاظ میں کوئی گنجائش اس امر کی نہیں ۃے کہ   معاد   سے   مکہ   مراد لیا جائے ۔  دوسرے یہ سورۃ روایات کی رو سے بھی اور اپنے مضمون کی اعلی شہادت کے اعتبار سے بھی ہجرت حبشہ کے قریب زمانہ کی ہے اور یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ کئی سال بعد ہجرت مدینہ کے راستہ میں اگر یہ آیت نازل ہوئی تھی تو اسے کس مناسبت سے یہاں اس سیاق و سباق میں لاکر رکھ دیا گیا ۔  تیسرے اس سیاق و سباق کے اندر مکہ کی طرف حضور کی واپسی کا ذکر بالکل بے محل نظر آتا ہے ،  آیت کے یہ معنی اگر لیے جائیں تو یہ کفار مکہ کی بات کا جواب نہیں بلکہ ان کے عذر کو اور تقویت پہنچانے والا ہوگا ۔  اس کے معنی یہ ہوں گے کہ بیشک اے اہل مکہ ،  تم ٹھیک کہتے ہو ،  محمد اس شہر سے نکال دیے جائیں گے ،  لیکن وہ مستقل طور پر جلا وطن نہیں رہیں گے ،  بلکہ آخر کار ہم انہیں اسی جگہ واپس لے آئیں گے ،  یہ روایت اگرچہ بخاری ،  نسائی ،  ابن جریر اور دوسرے محدثین نے ابن عباس سے نقل کی ہے ،  لیکن یہ ہے ابن عباس کی اپنی ہی رائے ۔  کوئی حدیث مرفوع نہیں ہے کہ اسے ماننا لازم ہو  ۔  

Tafseer:02

Surat No. 28 Ayat NO. 85 
49: قرآنِ کریم میں اصل لفظ ’’معاد ‘‘استعمال ہوا ہے، بعض مفسرین کے نزدیک یہ ’’عادت‘‘ سے نکلا ہے، یعنی وہ جگہ جس میں رہنے اور آنے جانے کا اِنسان عادی اور اس سے مانُوس ہو۔ اور بعض حضرات نے اس کے معنیٰ ’’لوٹنے کی جگہ‘‘ بیان کئے ہیں۔ دونوں صورتوں میں اس سے مکہ مکرَّمہ مراد ہے، اور یہ آیت اُس وقت نازل ہوئی تھی جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرَّمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منوَّرہ تشریف لے جارہے تھے، جب جحفہ کے قریب اُس جگہ پہنچے جہاں سے مکہ مکرَّمہ کا راستہ الگ ہوتا تھا، تو آپ کو اپنے وطن سے جدائی کا اِحساس ہوا، اِس موقع پر اِس آیت کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے تسلی دی، اور وعدہ فرمایا کہ آپ کو دوبارہ اِس سرزمین میں فاتح کی حیثیت سے لایا جائے گا۔ چنانچہ آٹھ سال کی مدت میں یہ وعدہ پورا ہوگیا اور مکہ مکرَّمہ میں آپ فاتح بن کر داخل ہوئے، اور بعض مفسرین نے ’’انسیت کی جگہ‘‘ یا ’’لوٹنے کی جگہ‘‘ سے مراد جنّت لی ہے اور آیت کا مطلب یہ بتایا ہے کہ آپ کو اگرچہ اس دُنیا میں تکلیفیں پہنچ رہی ہیں، لیکن آخر کار آپ کا مقام جنّت ہے۔

No comments:

Post a Comment

Please do not enter any spam link in comment box.