UA-166045260-1 मुसीबत से निजात पाने की दुआ - Islamic Way Of Life

Latest

A website for Islamic studies, Islamic History , Islamic teachings , Islamic way of Life , Islamic quotes, Islamic research , Islamic books , Islamic method of prayers, Islamic explanation of Quran, Islamic Hadith, Islamic Fatwa and truth of Islam.

Monday, 4 July 2022

मुसीबत से निजात पाने की दुआ

 मुसीबत से निजात पाने की दुआ

जब कोई किसी मुसीबत और बला में मुब्तिला हो, उसमे मुब्तला होने का खौफ हो, इस आयत को ज्यादा से ज्यादा पढ़ें:-
 حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ
हसबुनल्लाहो व नेमल वकील।

"हमारे लिए तो बस अल्लाह काफ़ी है और वही सबसे अच्छा कार्य-साधक है।"

(Quran: Surah Name: آل;عمران Verse: 173)


When you are in trouble, or afraid of being named, read this verse as much as possible -
"Hasbunallahu wa neàmal Waqeel ."
حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ

"For us Allah is sufficient, and He is the best disposer of affairs."



جب کسی مصیبت اور بلا میں مبتلا ہو، یا اسمے مبتلا ہونے کا خائف ہو، اس آیت کو زیادہ سے زیادہ پڑھیں -

حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ-

" ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارسا ز ہے"
(QS. Ali 'Imran 3: Verse 173)



Tafseer 01:-
Surat No. 3 Ayat NO. 173 
59: جب کفار مکہ احد کی جنگ سے واپس چلے گئے تو راستے میں انہیں پچھتاوا ہوا کہ ہم جنگ میں غالب آجانے کے باوجود خواہ مخواہ واپس آگئے، اگر ہم کچھ اور زور لگاتے تو تمام مسلمانوں کا خاتمہ ہوسکتا تھا۔ اس خیال کی وجہ سے انہوں نے مدینہ منورہ کی طرف لوٹنے کا ارادہ کیا۔ دوسری طرف آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شاید ان کے ارادے سے باخبر ہو کر یا احد کے نقصان کی تلافی کے لیے جنگ احد کے اگلے دن سویرے صحابہ میں یہ اعلان فرمایا کہ ہم دشمن کے تعاقب میں جائیں گے، اور جو لوگ جنگ احد میں شریک تھے صرف وہ ہمارے ساتھ چلیں۔ صحابہ کرام اگرچہ احد کے واقعات سے زخم خوردہ تھے، اور تھکے ہوئے بھی تھے، مگر انہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس دعوت پر لبیک کہا جس کی تعریف اس آیت میں کی گئی ہے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے صحابہ کے ساتھ مدینہ منورہ سے نکل کر حمراء الاسد کے مقام پر پہنچے تو وہاں قبیلہ خزاعہ کا ایک شخص معبد آپ سے ملا جو کافر ہونے کے باوجود آپ سے ہمدردی رکھتا تھا، اس نے مسلمانوں نے کے حوصلے کا خود مشاہدہ کیا اور جب وہاں سے نکلا تو اس کی ملاقات کفار مکہ کے سردار ابو سفیان سے ہوگئی، اس نے ابو سفیان کو مسلمانوں کے لشکر اور اس کے حوصلوں کے بارے میں بتایا اور مشورہ دیا کہ وہ لوٹ کر حملہ کرنے کا ارادہ ترک کر کے واپس چلا جائے۔ اس سے کفار پر رعب طاری ہوا اور وہ واپس تو چلے گئے لیکن عبدالقیس کے ایک قافلے سے جو مدینہ منورہ جا رہا تھا یہ کہہ گئے کہ جب راستے میں ان کی ملاقات آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہو تو ان سے یہ کہیں کہ ابو سفیان بہت بڑا لشکر جمع کرچکا ہے اور مسلمانوں کا خاتمہ کرنے کے لیے ان پر حملہ آور ہونے والا ہے مقصد یہ تھا کہ اس خبر سے مسلمانوں پر رعب پڑے۔ چنانچہ یہ لوگ جب حمراء الاسد پہنچ کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملے تو یہی بات کہی، لیکن صحابہ کرام نے اس سے مرعوب ہونے کے بجائے وہ جملہ کہا جو اس آیت میں تعریف کے ساتھ نقل کیا گیا ہے۔

Tafseer 02:- 
Surat No. 3 Ayat NO. 173 
سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :123
یہ چند آیات جنگ احد کے ایک سال بعد نازل ہوئی تھیں ، مگر چونکہ ان کا تعلق احد ہی کے سلسلہ واقعات سے تھا ، اس لیے ان کو بھی اس خطبہ میں شامل کر دیا گیا ۔

No comments:

Post a Comment

Please do not enter any spam link in comment box.